ڈونلڈ ٹرمپ، چین ,روس ایران

ٹرمپ نے ایران کو چین اور روس کی مدد ملنے کے دعووں کو مسترد کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ چین اور روس ایران کی کسی قسم کی مدد کر رہے ہیں۔ پیر کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں انہوں نے ان دعوؤں پر شک ظاہر کیا کہ بیجنگ اور ماسکو تہران کی حمایت کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق، انہوں نے اپنے ناقدین اور سیاسی مخالفین کے ایسے تبصرے دیکھے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ چین اور روس ایران کی مدد کر رہے ہیں۔ تاہم، امریکی صدر نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ دونوں ممالک ایرانی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ اگر کسی قسم کی مدد فراہم کی جا رہی ہو تو اس کی سطح بہت کم ہو سکتی ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خیال میں چین اور روس ایران کی کسی بھی طرح مدد نہیں کر رہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین اور روس کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہے۔ ان کے مطابق، تہران کی حمایت کرنے سے دونوں ممالک کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے وہ اس معاملے میں ملوث ہونے سے گریز کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کو کسی قسم کی مدد فراہم کی جا رہی ہوتی تو امریکا کو اس کا جلد علم ہو جاتا۔ تاہم، ٹرمپ نے اس حوالے سے کوئی مخصوص انٹیلی جنس معلومات یا شواہد پیش نہیں کیے جن سے ان کے دعوے کی تصدیق ہو سکے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ان الزامات کے جواب میں سامنے آیا جن کا ذکر ان کے ناقدین اور سیاسی مخالفین نے کیا تھا۔ تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مبینہ مدد کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے۔ ان کے بیان میں چین یا روس کی جانب سے ایران کی حمایت کے دعوؤں کی تصدیق یا تردید کے لیے تفصیلی شواہد بھی شامل نہیں تھے۔

ٹرمپ کے بیان سے ایران کے معاملے میں عالمی طاقتوں کے ممکنہ کردار پر جاری بحث نمایاں ہوتی ہے۔ امریکی صدر نے چین اور روس کی جانب سے ایران کی مدد کے دعوؤں کو مسترد کیا، تاہم ان کا بیان بذاتِ خود اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ دونوں ممالک کسی قسم کی مدد فراہم کر رہے ہیں یا نہیں۔ ایران اور بڑی عالمی طاقتوں کے تعلقات پر بین الاقوامی توجہ کے باعث یہ معاملہ اہمیت رکھتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین