امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ ٹرمپ–نیتن یاہو فون کال بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں جنگی صورتحال پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں مسلسل جاری جھڑپوں نے انہیں تشویش میں مبتلا کر دیا تھا اور وہ کشیدگی کے خاتمے کے خواہاں تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نیتن یاہو فون کال کے دوران امریکی صدر نے اسرائیلی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس اختلاف کے باوجود ان کے نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات مثبت ہیں اور دونوں رہنما کئی معاملات پر قریبی تعاون کرتے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ خود کو ایک جنگی صدر اور نیتن یاہو کو ایک جنگی وزیر اعظم سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق مشکل حالات میں اتحادی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہونا غیر معمولی بات نہیں۔
انہوں نے لبنان کی صورتحال کو ایران سے متعلق جاری سفارتی کوششوں سے بھی جوڑا۔ ٹرمپ کے مطابق خطے میں امن کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے لبنان میں کشیدگی کا خاتمہ ضروری ہے، جبکہ ٹرمپ نیتن یاہو فون کال بھی اسی تناظر میں ہوئی۔
ایران کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر آمادہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی قیادت مذاکراتی عمل میں شامل ہے اور مستقبل میں اعلیٰ سطحی ملاقات کا امکان موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ نیتن یاہو فون کال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں مزید کشیدگی روکنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایران، اسرائیل اور لبنان سے متعلق جاری پیش رفت مشرق وسطیٰ کے امن اور سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔