ترکیہ اسکول فائرنگ

ترکیہ اسکول فائرنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی

ترکیہ اسکول فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 تک پہنچ گئی ہے، جب ایک 11 سالہ زخمی بچی اسپتال میں دم توڑ گئی۔ یہ واقعہ پورے ملک میں غم اور تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

یہ واقعہ 15 اپریل کو صوبہ کہرامانماراش میں پیش آیا، جہاں ایک 14 سالہ طالب علم نے اسکول کے اندر فائرنگ کر دی۔ اس حملے میں 10 سے 11 سال کی عمر کے 9 طلبہ اور ایک استاد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

رپورٹس کے مطابق حملہ آور اسکول میں پانچ آتشیں اسلحہ لے کر آیا تھا، جس نے سیکیورٹی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ملزم ایک سابق پولیس انسپکٹر کا بیٹا تھا، جسے بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔

یہ ترکیہ اسکول فائرنگ واقعہ عوامی سطح پر شدید ردعمل کا باعث بنا ہے۔ شہریوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک نائب وزیر تعلیم کو برطرف کر دیا۔ انہوں نے اسلحہ رکھنے کے قوانین مزید سخت کرنے کا اعلان بھی کیا۔

اسی دوران صوبہ شانلی اورفا میں ایک اور واقعے میں سابق طالب علم نے فائرنگ کر کے 16 افراد کو زخمی کر دیا اور بعد میں پولیس سے مقابلے میں ہلاک ہو گیا، جس سے عوامی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔

حکام اب اسکولوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے اور اسلحہ قوانین سخت کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ترکیہ اسکول فائرنگ نے ملک میں تعلیمی اداروں کی حفاظت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین