ترکیہ کے صدر اردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ کے بغیر یورپ نامکمل اور بحرانوں سے نمٹنے میں کمزور رہے گا۔ یومِ یورپ کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ترکیہ خطے کے امن، استحکام اور تعاون کے لیے ایک اہم ملک ہے۔
اردوان نے شومین اعلامیے کو یورپی اتحاد کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعلان امن، تعاون اور باہمی احترام کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ اس وقت سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جن کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
ترک صدر کے مطابق عالمی جنگی تنازعات، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحرانوں نے یورپی یونین کے بنیادی اصولوں کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یورپی یونین کو زیادہ جامع اور متحد پالیسیوں کی طرف بڑھنا ہوگا تاکہ خطے میں استحکام قائم رکھا جا سکے۔
اردوان نے کہا کہ ترکیہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو باہمی فائدے اور احترام کی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے مکمل رکنیت کے عزم کو دہراتے ہوئے یورپی ممالک سے بھی مثبت اور مخلصانہ رویے کی توقع ظاہر کی۔
ترکیہ کے بغیر یورپ کی بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطہ توانائی، سیکیورٹی اور ہجرت جیسے اہم مسائل سے دوچار ہے۔ ماہرین کے مطابق ترکیہ اپنی جغرافیائی حیثیت اور سفارتی اثر و رسوخ کے باعث یورپ کے لیے اہم کردار رکھتا ہے۔
اردوان نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کو ترکیہ کی ضرورت، ترکیہ کی یورپی یونین سے ضرورت سے زیادہ ہے۔ ان کے مطابق بدلتی عالمی صورتحال کے باعث آنے والے برسوں میں یہ اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔ ان بیانات کو یورپ اور ترکیہ کے تعلقات میں نئی بحث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی اختلافات کے باوجود اردوان نے امید ظاہر کی کہ یومِ یورپ خطے میں امن، خوشحالی اور یکجہتی کو فروغ دے گا۔ ترکیہ کے بغیر یورپ سے متعلق بحث مستقبل میں یورپی سیاست اور علاقائی تعاون پر اثر انداز ہوتی رہے گی۔