مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے گلگت بلتستان انتخابات کے نتائج کے بعد پارٹی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ بننے کے بجائے اپوزیشن کا کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ حکمت عملی پارٹی کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
اپنے ایک بیان میں خواجہ سعد رفیق نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو گلگت بلتستان انتخابات میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو پارٹی کی کارکردگی اتنی کمزور نہیں جتنی ظاہر کی جا رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے انتخابات میں 8 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ پارٹی کی حمایت یافتہ دو آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ پارٹی اب بھی علاقے میں مؤثر سیاسی قوت کی حیثیت رکھتی ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ چند حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار انتہائی کم ووٹوں کے فرق سے شکست کھا گئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مقابلہ سخت تھا اور پارٹی کی عوامی حمایت برقرار ہے۔
انہوں نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا کہ پارلیمانی نظام کے استحکام اور جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے مسلم لیگ (ن) حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کرے۔ تاہم ان کی رائے میں پارٹی کو حکومت میں شامل ہو کر وزارتیں لینے سے گریز کرنا چاہیے۔
سعد رفیق کے مطابق اپوزیشن میں رہتے ہوئے مسلم لیگ (ن) عوامی مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کر سکتی ہے اور حکومت کی کارکردگی پر بہتر نگرانی بھی رکھ سکتی ہے۔