گلگت بلتستان انتخابات

گلگت بلتستان انتخابات: پولنگ ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

اسکردو: گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں رائے دہی کا عمل مکمل ہونے کے بعد اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ الیکشن کمیشن اور مقامی ذرائع کے مطابق مختلف حلقوں سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اس مرتبہ جی بی اسمبلی کی 24 عام نشستوں پر 403 امیدواروں نے قسمت آزمائی کی۔ پولنگ صبح سے شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہی۔ صبح ہوتے ہی تمام اضلاع کے پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈال کر جمہوری عمل کو کامیاب بنایا۔

ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق گلگت کے تینوں حلقوں میں سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جی بی اے 1 گلگت 1 میں 80 میں سے 28 پولنگ اسٹیشنز کے نتیجے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 3600 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے محمد شفیق الدین 2300 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ جی بی اے 2 گلگت 2 میں 91 میں سے 27 اسٹیشنز کے مطابق مسلم لیگ ن کے حفیظ الرحمان 4129 ووٹ لے کر آگے ہیں اور پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2695 ووٹ کے ساتھ تعاقب میں ہیں۔ جی بی اے 3 گلگت 3 میں پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر ایڈوکیٹ 3070 ووٹ لے کر برتری پر ہیں جبکہ آزاد امیدوار سید سہیل عباس 2965 ووٹ کے ساتھ قریب ہیں۔

بلتستان کے حلقوں میں بھی دلچسپ صورتحال ہے۔ جی بی اے 7 اسکردو 1 میں استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال حسین خان 2000 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں اور پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 1792 ووٹ کے ساتھ ان کے پیچھے ہیں۔ جی بی اے 8 اسکردو 2 سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے محمد کاظم 1228 ووٹ لے کر آگے چل رہے ہیں۔ اسکردو کے دیگر حلقوں جی بی اے 9 اور جی بی اے 10 میں پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد اور ناصر علی خان نے برتری حاصل کی ہوئی ہے۔

ہنزہ، نگر، غذر اور گھانچے کے اضلاع میں آزاد امیدواروں نے بھی اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ جی بی اے 6 ہنزہ میں آزاد امیدوار نیک نام کریم 937 ووٹ کے ساتھ پہلے، جی بی اے 5 نگر 2 میں جہانگیر شاہ 814 ووٹ کے ساتھ، جی بی اے 20 غذر 2 میں صفدر علی شیرازی 1196 ووٹ کے ساتھ اور جی بی اے 24 گھانچے 3 میں اسد شفیق 4419 ووٹ لے کر آگے ہیں۔ استور اور دیامر کے حلقوں میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کے امیدواروں کے درمیان ووٹوں کا فرق بہت کم ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والے نتائج غیر حتمی ہیں کیونکہ تمام پولنگ اسٹیشنز کی گنتی مکمل نہیں ہوئی۔ حتمی نتائج کا اعلان ووٹوں کی مکمل گنتی اور فارم 47 مرتب ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ گلگت بلتستان کی 24 جنرل نشستوں کے ساتھ خواتین اور ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشستوں پر بھی فیصلہ حتمی نتائج کے بعد ہی ہو سکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین