امریکا ایران امن منصوبہ

سوئٹزرلینڈ کا امریکا ایران امن منصوبے کا خیرمقدم، مذاکرات کل ہوں گے

سوئٹزرلینڈ نے امریکا ایران امن منصوبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ سوئس حکام کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر عملدرآمد سے متعلق ابتدائی مذاکرات جمعہ کو برگن اسٹاک میں ہوں گے۔

سوئس وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا ایران امن منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور سفارتی روابط کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں استحکام اور امن کے امکانات کو مضبوط بناتی ہے۔

بیان کے مطابق امریکا اور ایران کے نمائندے پاکستان اور قطر سمیت دیگر ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ ان بات چیت کا مقصد معاہدے کے مختلف نکات پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو طے کرنا ہے۔

ایرانی حکام نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے صدور کے دستخط کے بعد مفاہمتی یادداشت باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔ اس معاہدے کو "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکا ایران امن منصوبہ میں جوہری پروگرام اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی سمیت اہم معاملات شامل ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ مذاکرات انہی موضوعات پر مرکوز رہیں گے۔

ایران کے مطابق مذاکراتی عمل 60 روز تک جاری رہ سکتا ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ دونوں فریق پیچیدہ سیاسی اور تکنیکی امور کے حل کے لیے مزید مشاورت کریں گے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکا ایران امن منصوبہ مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ برگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ سفارتی پیش رفت کس حد تک عملی نتائج میں تبدیل ہوتی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین