امریکی وزیر دفاع پیٹر برائن ہیگ سیتھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے حالیہ امریکا ایران معاہدہ کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو امریکا دوبارہ کارروائی کرنے کے لیے تیار ہوگا۔ انہوں نے یہ بیان برسلز میں نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس کے بعد دیا۔
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا ایران معاہدہ امریکا کی مضبوط سفارتی اور عسکری پوزیشن کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران بھی امریکی طاقت اور دباؤ ایک اہم عنصر کے طور پر موجود رہا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر مکمل عملدرآمد نہیں کرتا تو واشنگٹن مختلف آپشنز پر غور کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے مفادات اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔
امریکی وزیر دفاع نے عندیہ دیا کہ ایران کی جانب سے خلاف ورزی کی صورت میں سخت بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام امریکا ایران معاہدہ کی شرائط پر عمل یقینی بنانے کے لیے ممکنہ حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے بتایا کہ یورپ کے بعض ممالک آبنائے ہرمز میں بحری سکیورٹی اور آپریشنز میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی تعاون خطے میں تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے اہم ہوگا۔
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ امریکا نے مذاکرات میں ایران کو کوئی یکطرفہ رعایت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی پیش رفت امریکی عسکری طاقت اور مستقل دباؤ کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا ایران معاہدہ پر عملدرآمد کا مرحلہ انتہائی اہم ہوگا۔ دونوں ممالک مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہیں، تاہم معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ طے شدہ شرائط پر کس حد تک عمل کیا جاتا ہے۔