اسرائیلی آبادکار مسجد اقصیٰ کمپاؤنڈ

اسرائیلی پولیس کی فلسطینی نمازیوں پر سخت پابندیاں، آبادکار مسجد اقصیٰ میں داخل

مقبوضہ مشرقی یروشلم میں جمعرات کو تقریباً 1,300 اسرائیلی آبادکار مسجد اقصیٰ کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے۔ یروشلم گورنریٹ کے مطابق یہ کارروائی یہودی مذہبی موقع تشا باؤ (Tisha B’Av) کے دوران ہوئی جبکہ اسرائیلی پولیس نے فلسطینی نمازیوں پر سخت پابندیاں عائد کیں۔

یروشلم گورنریٹ نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس نے ہر گروپ میں داخل ہونے والے آبادکاروں کی تعداد تقریباً 150 تک بڑھا دی۔ اس کے علاوہ مسجد کے داخلی راستوں اور قدیم شہر کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی اہلکار بڑی تعداد میں تعینات کیے گئے۔

گورنریٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے متعدد فلسطینی نمازیوں کو فجر کی نماز کے لیے مسجد تک پہنچنے سے روک دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ صرف محدود تعداد میں افراد ہی مسجد میں داخل ہو سکے جبکہ بعض نمازیوں کو بعد میں ہٹا دیا گیا۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ بعض آبادکاروں نے کمپاؤنڈ کے اندر مذہبی رسومات ادا کیں، جن میں تفیلین پہننا، مشرقی حصے میں سجدہ کرنا اور بلند آواز میں مذہبی نعرے لگانا شامل تھا۔ مزید دعویٰ کیا گیا کہ بعض گروپ ہزاروں آبادکاروں کو وہاں لانے کی کوشش کر رہے تھے۔

یروشلم گورنریٹ نے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کے دورے کو خطرناک پیش رفت قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کے خلاف ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔

اسرائیلی رکن پارلیمنٹ امیت ہلیوی نے بھی جمعرات کو مسجد اقصیٰ کمپاؤنڈ کا دورہ کیا۔ یہ مقام مسلمانوں کے لیے تیسرا مقدس ترین مقام ہے جبکہ یہودی اسے ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں اور اسے قدیم یہودی مندروں کا مقام قرار دیتے ہیں۔

مسجد اقصیٰ کمپاؤنڈ گزشتہ کئی برسوں سے مذہبی اور سیاسی کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔ اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا اور بعد میں اسے اپنے ساتھ ضم کر لیا، جسے عالمی برادری کی اکثریت تسلیم نہیں کرتی۔ حالیہ واقعے پر مزید بین الاقوامی ردعمل متوقع ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین