لندن: ایران پر امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 1.93 ڈالر یا تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 8 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
دوسری جانب ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 1.44 ڈالر یا 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 88.27 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
گزشتہ کاروباری سیشن میں بھی برینٹ خام تیل کی قیمت 3 ڈالر سے زائد اضافے کے بعد 94.07 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی تھی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت میں بھی تقریباً 3 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، ممکنہ سپلائی میں رکاوٹ اور عالمی توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات کا نتیجہ ہے۔
قیمتوں میں یہ تیزی اس وقت سامنے آئی جب امریکی افواج نے ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا، جبکہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے عالمی شپنگ اور توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا۔
بحیرۂ احمر عالمی تیل کی ترسیل کے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس خطے میں کشیدگی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔