امریکہ سعودی جوہری معاہدہ

سعودی جوہری پروگرام پر اسرائیل نے علاقائی سلامتی کے خدشات ظاہر کردیے

امریکہ سعودی جوہری معاہدہ اسرائیل میں نئی بحث کا سبب بن گیا ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب نے ایک سول جوہری تعاون معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت سعودی عرب امریکی ٹیکنالوجی سے جوہری ری ایکٹرز تعمیر کر سکے گا اور یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرے گا۔ معاہدہ نافذ ہونے سے پہلے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔

اس معاہدے کا مقصد سعودی عرب کے پرامن جوہری توانائی پروگرام کو فروغ دینا اور دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تعاون کو وسعت دینا ہے۔ امریکی محکمہ توانائی کے مطابق یہ شراکت داری توانائی، تجارت اور جوہری عدم پھیلاؤ کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنائے گی۔

اسرائیل کی اپوزیشن کے متعدد رہنماؤں نے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ یہ پیش رفت اسرائیل کی طویل المدتی سلامتی کے لیے ایک سنگین تزویراتی چیلنج بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب میں یورینیم افزودگی خطے میں جوہری دوڑ کو جنم دے سکتی ہے۔

سابق وزیر دفاع ایویگڈور لیبرمین نے بھی معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سول جوہری پروگرام مستقبل میں ہتھیاروں کی دوڑ کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی مخالفت کرے اور امریکی کانگریس سے رابطہ کرے۔

سابق وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری تعاون کو وسیع علاقائی سلامتی کے فریم ورک سے منسلک کیا جانا چاہیے تھا۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی کابینہ نے معاہدے پر فوری طور پر کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا۔

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے "123 معاہدے” سمیت دو اہم دستاویزات پر دستخط کیے۔ امریکی حکام کے مطابق اس شراکت داری سے جوہری تحفظ، عدم پھیلاؤ کے معیارات اور امریکی کمپنیوں کے لیے نئے تجارتی مواقع پیدا ہوں گے۔

امریکہ سعودی جوہری معاہدہ اب امریکی کانگریس کے جائزے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ حامی اسے توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین کے مطابق اس سے مشرق وسطیٰ میں سلامتی اور تزویراتی توازن پر نئے سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین