تیل کی قیمتیں

مشرق وسطیٰ کشیدگی، تیل کی قیمتیں چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر

تیل کی قیمتیں جمعرات کو ایشیائی تجارت کے دوران چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں کیونکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اہم بحری راستوں سے متعلق خدشات نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر دی۔ سرمایہ کار خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 2.20 ڈالر یا 2.3 فیصد اضافے کے بعد 96.27 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 1.65 ڈالر یا 1.9 فیصد اضافے کے ساتھ 88.48 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے دعوے رہے۔ بعض دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہو سکی۔

ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر کے باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں پر ممکنہ خطرات نے عالمی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔ یہ دونوں راستے دنیا بھر میں خام تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا سچدیوا نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی خطرات دوبارہ تیل کی منڈی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق تیل کی قیمتیں اسی صورت میں مزید مسلسل بڑھ سکتی ہیں جب سپلائی میں طویل تعطل یا جہاز رانی میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہوں۔

توانائی کے شعبے کے دیگر تجزیہ کاروں نے بھی خبردار کیا کہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی متاثر ہونے کی صورت میں روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے سرمایہ کار خطے کی تازہ صورتحال اور حکومتی اقدامات کا انتظار کر رہے ہیں۔

تیل کی قیمتیں اس وقت عالمی توانائی منڈی میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کر رہی ہیں۔ آئندہ دنوں میں قیمتوں کا رخ مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال، تیل کی سپلائی اور عالمی بحری راستوں پر ہونے والی پیش رفت پر منحصر رہے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین