اسحاق ڈار آسیان فورم

اسحاق ڈار کا امریکہ ایران امن کوششیں جاری رکھنے پر زور

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے اور "ہمیں اس موقع کو اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔” منیلا میں 33ویں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار آسیان فورم میں علاقائی امن اور سفارت کاری کے تسلسل پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی بھرپور صلاحیت کے مطابق کردار ادا کیا۔ اسحاق ڈار نے اسلام آباد مذاکرات اور بعد ازاں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امریکہ، ایران، خلیجی ممالک اور دیگر شراکت داروں کے اعتماد پر فخر ہے۔

اسحاق ڈار آسیان فورم خطاب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ سفارتی کامیابیاں مسلسل مذاکرات اور اعتماد سازی کے ذریعے حاصل ہوئی ہیں، اس لیے تمام فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا، اپنے وعدے پورے کرنا اور پرامن مذاکرات جاری رکھنا ہوں گے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کو بھی علاقائی استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔

اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے آسیان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے منیلا پلان آف ایکشن (2026-2036) کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔

جنوبی ایشیا سے متعلق گفتگو میں وزیر خارجہ نے مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل پر زور دیا اور کہا کہ یہ تنازع خطے کے استحکام سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا۔

اسحاق ڈار نے غزہ کی صورتحال، دہشت گردی، افغانستان، یوکرین اور بحیرہ جنوبی چین کے معاملات پر بھی پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعادہ کیا، دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کی اور افغان طالبان پر زور دیا کہ افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

اختتامی کلمات میں اسحاق ڈار آسیان فورم خطاب کے دوران وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان علاقائی تعاون، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور کثیرالجہتی سفارت کاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے آسیان رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ مشترکہ کوششوں سے ایک پرامن، جامع اور مستحکم خطے کی تعمیر کریں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین