اسلام آباد: پاکستان کی سینئر اداکارہ سیمی راحیل نے خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان خواتین کے رہنے کے لیے محفوظ ملک نہیں رہا۔ حالیہ انٹرویو میں انہوں نے ماضی کے حالات اور آج خواتین کو درپیش مشکلات کا موازنہ بھی کیا۔
اداکارہ نے اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سردیوں میں ٹی شرٹ اور جینز پہن کر تقریباً تین گھنٹے چہل قدمی کرنے کے بعد گھر جایا کرتی تھیں۔ ان کے مطابق اس دور میں بھی خواتین کو ناپسندیدہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تاہم موجودہ حالات میں انہیں زیادہ تشویش ناک تبدیلیاں محسوس ہوتی ہیں۔
سیمی راحیل کا کہنا تھا کہ ماضی میں خواتین کو دیکھ کر سیٹیاں بجانے جیسے واقعات بھی پیش آتے تھے، لیکن کسی کو جسمانی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش پر لوگ مداخلت کرتے تھے۔ ان کے مطابق اس وقت ایسے رویوں کو برداشت کرنے کا رجحان نسبتاً کم دکھائی دیتا تھا۔
اداکارہ نے لاہور کے انارکلی بازار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی خاتون کو نامناسب انداز میں ہاتھ لگاتا تو وہاں موجود لوگ اسے پکڑ لیتے تھے۔ ان کے بیان کے مطابق، عوام کی جانب سے ایسے واقعات پر فوری ردعمل خواتین کے تحفظ کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے تجربے میں ماضی میں اس نوعیت کے واقعات روزانہ پیش نہیں آتے تھے۔ اداکارہ نے موجودہ دور میں خواتین کو درپیش حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات پر خواتین کی حفاظت ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
سیمی راحیل نے ماضی کے معاشرتی رویوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت لوگوں میں کچھ خوف، شرم اور غیرت کا احساس موجود تھا، جو بعض نامناسب حرکات کو روکنے کا سبب بنتا تھا۔ ان کے خیال میں اب ایسے سماجی عوامل کا اثر پہلے جیسا نہیں رہا۔