آئی ایس پی آر

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 70 سے زائد دہشتگرد ہلاک: آئی ایس پی آر

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ چند روز کے دوران انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں 70 سے زائد دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے۔ یہ تفصیلات پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلیجنس اداروں نے بلوچستان کے علاقے شعبان میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سے منسلک عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کی نشاندہی کی تھی، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں شروع کیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 21 ستمبر کو زیارت اور گردونواح میں آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جبکہ متعدد مبینہ ٹھکانوں کو کلیئر کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ عناصر مقامی آبادی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 25 ستمبر کو نوشکی میں بھی انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا گیا، جس میں 11 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ اسی طرح مند کے علاقے میں کارروائی کے دوران فتنۃ الہندوستان سے منسلک 6 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔ کارروائیوں کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران 70 سے زائد دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں سے ایسے عسکریت پسند نیٹ ورکس کو نقصان پہنچا ہے جن کے بارے میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ انہیں بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے اور وہ افغان پراکسیز کے ذریعے سرگرم ہیں۔

آئی ایس پی آر نے افغان طالبان حکومت کے بعض عناصر پر بھی پاکستان میں عسکریت پسند سرگرمیوں سے متعلق الزامات عائد کیے اور کہا کہ اس صورتحال کے ساتھ بھارت کی مبینہ معاونت خطے کے امن و سلامتی کے لیے چیلنج ہے۔ یہ مؤقف پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں سامنے آیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین