خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں فائرنگ کے حملے میں 3 ٹریفک پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق دہشت گردوں نے پیر کے روز پولیس کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا اور اہلکاروں پر فائرنگ کی۔
حملے کے دوران ٹریفک پولیس اہلکار پولیس گاڑی میں موجود تھے جب مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کردی۔ واقعے کے بعد شہید اہلکاروں کی لاشیں ضروری کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کردی گئیں۔
ٹانک فائرنگ حملے کے بعد پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔ فائرنگ کرنے والے مسلح افراد حملے کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس کی جانب سے حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے 3 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہلخانہ سے تعزیت کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت غم کی اس گھڑی میں شہید اہلکاروں کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
ٹانک فائرنگ حملہ خیبر پختونخوا میں حالیہ پرتشدد واقعات کے دوران پیش آیا ہے۔ ایک روز قبل ضلع لکی مروت میں ایک حملے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 3 دیگر زخمی ہوئے تھے۔
اس سے قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکے اور فائرنگ کے واقعے میں 12 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوئے تھے۔ 18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران حملے میں 21 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔