بنگلہ دیش بھارت سرحدی تنازع

بنگلہ دیش کا متعدد سرحدی کوششیں ناکام بنانے کا دعویٰ

بنگلہ دیش بھارت سرحدی تنازع ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے کیونکہ بنگلہ دیشی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بھارت کی جانب سے لوگوں کو سرحد پار بھیجنے کی متعدد مبینہ کوششیں ناکام بنا دی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ واقعات گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف سرحدی علاقوں میں پیش آئے۔

بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) نے بتایا کہ سرحد کے مختلف حصوں میں کم از کم دس مبینہ خلاف ورزیوں کا پتہ چلایا گیا۔ ادارے کے مطابق اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی داخلے کی ہر کوشش کو روکا۔

بنگلہ دیش بھارت سرحدی تنازع حالیہ مہینوں میں غیر قانونی ہجرت کے مسئلے کے باعث مزید نمایاں ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ہزاروں کلومیٹر طویل سرحد کی نگرانی ایک بڑا چیلنج سمجھی جاتی ہے۔

بنگلہ دیشی حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ سرحدی معاملات کو بین الاقوامی قوانین اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

ایک مبینہ واقعہ ضلع جھینائدہ میں پیش آیا جہاں بنگلہ دیشی حکام کے مطابق بھارتی اہلکاروں نے لوگوں کے ایک گروپ کو بنگلہ دیشی حدود کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کی۔ بی جی بی نے دعویٰ کیا کہ اس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

بنگلہ دیش بھارت سرحدی تنازع دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ ڈھاکا مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اگر کسی شخص کی بنگلہ دیشی شہریت ثابت ہو جائے تو اسے قانونی اور سفارتی طریقہ کار کے تحت واپس بھیجا جائے۔

اگرچہ حالیہ واقعات نے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے سرحدی حکام کے درمیان جلد مذاکرات متوقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل رابطہ اور تعاون ہی سرحدی مسائل کے پائیدار حل میں مدد دے سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین