بیلجیئم ستمبر کے آغاز میں گرین لینڈ میں تقریباً 30 فوجی اہلکار تعینات کرے گا۔ بیلجیئم فوج گرین لینڈ تعیناتی نیٹو کے نئے قائم کردہ آرکٹک سینٹری مشن کا حصہ ہوگی، جس کا مقصد آرکٹک خطے میں اتحاد کی موجودگی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
بیلجیئم کے وزیر دفاع تھیو فرانکن نے جمعہ کو بیلجیئم کے نشریاتی ادارے وی ٹی ایم سے گفتگو میں تعیناتی کی تصدیق کی۔ فوجی دستے میں لیوپولڈزبرگ میں موجود پہلی بریگیڈ کے اہلکاروں کے علاوہ بیلجیئم کی اسپیشل فورسز کے ارکان بھی شامل ہوں گے۔
آرکٹک سینٹری مشن کے تحت نیٹو گرین لینڈ، آئس لینڈ اور آرکٹک اوشن کے گرد و نواح میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ نیٹو کے مطابق روس اور چین کی جانب سے آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک دلچسپی بھی اتحاد کی توجہ میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔
مشن کے تحت بیلجیئم کے فوجی اہلکار دفاعی اور تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ ان سرگرمیوں میں ڈرونز کا استعمال اور ڈرون مخالف نظام کی جانچ بھی شامل ہوگی، جس کا مقصد خطے میں ممکنہ فضائی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔
بیلجیئم فوج گرین لینڈ تعیناتی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب اس آرکٹک جزیرے کی عالمی سطح پر اسٹریٹجک اہمیت بڑھ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ گرین لینڈ کو حاصل کرنے میں دلچسپی کا اظہار کرچکے ہیں۔ گرین لینڈ ڈنمارک کی خود مختار علاقائی اکائی ہے۔
نیٹو کا آرکٹک مشن اتحادی ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے اور خطے میں ممکنہ سیکیورٹی چیلنجز کی نگرانی و مقابلے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ گرین لینڈ کا جغرافیائی محل وقوع اسے آرکٹک دفاع اور نگرانی کے لیے خاص اہمیت دیتا ہے۔
بیلجیئم کی فوجی تعیناتی ستمبر کے آغاز میں متوقع ہے اور یہ وسیع تر آرکٹک سینٹری مشن کا حصہ ہوگی۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی طاقتوں کے درمیان آرکٹک خطے میں بڑھتی مسابقت کے باعث نیٹو اپنی توجہ اور دفاعی سرگرمیاں مزید بڑھا رہا ہے۔