بلاول بھٹو

بلاول: نظام ناکام نہیں، ناکام کروایا گیا ہے

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ نظام خود ناکام نہیں ہوا بلکہ اسے ناکام کروایا گیا ہے، جب تک عوام کی حاکمیت تسلیم نہیں کی جائے گی، نظام مؤثر انداز میں نہیں چل سکے گا۔ آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں اور ان کی رائے کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام اگر عوام کا فیصلہ ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی، تاہم اگر عوام نئے صوبوں کے قیام کے حق میں نہیں تو ان کی جماعت بھی اس فیصلے کا ساتھ نہیں دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اہم سیاسی فیصلے عوام کی مرضی کے مطابق ہونے چاہئیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں حکومت خطرے میں ہے اور اس کے خلاف الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ بلاول بھٹو کے مطابق یہ الٹی گنتی پیپلز پارٹی نے نہیں بلکہ حکومت میں شامل اس کے اپنے لوگوں نے شروع کی ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلافات پر بھی تنقید کی۔ بلاول نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم کے اردگرد موجود بعض افراد کی نیت صاف نہیں اور مسلم لیگ ن کا ایک مخصوص حصہ وزیراعظم کو اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اتحادیوں سے بھی لڑانا چاہتا ہے۔ انہوں نے اسے اسلام آباد اور لاہور کے درمیان جاری اندرونی سیاسی مسئلہ قرار دیا۔

آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے امیدواروں اور آزاد کشمیر کے صدر پر حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ان کی جماعت دھاندلی زدہ اور خونی انتخابات قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کی جانب سے مظفرآباد میں حکومت بنانے کی امید پر بھی تنقید کرتے ہوئے شفاف انتخابات اور سچ کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔

بلاول نے کہا کہ آزاد کشمیر اس وقت انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے پچاس، پچاس دن تک انٹرنیٹ اور سڑکیں بند رہنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال سے کاروباری سرگرمیاں اور معمولات زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق تمام مسائل بات چیت سے حل کیے جا سکتے ہیں اور سچائی و مفاہمتی کمیشن کے قیام تک فریقین کو احتجاج اور کارروائیاں روک دینی چاہئیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ اگر کشمیر ایک ہے تو انتخابات بھی ایک ہی دن ہونے چاہئیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تاریخ میں پہلے کبھی چھ مراحل میں انتخابات نہیں ہوئے۔ بلاول بھٹو کے مطابق سیاسی استحکام کے لیے عوام کی حاکمیت، شفاف انتخابات اور مذاکرات کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین