ایف وائی 27 بجٹ پاکستان کے حوالے سے کاروباری برادری نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ روایتی ٹیکس پر مبنی پالیسیوں کے بجائے برآمدات اور صنعتی ترقی پر توجہ دے۔ کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔
کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے نمائندوں نے بتایا کہ انہوں نے حکومت کو مختلف بجٹ تجاویز پیش کی ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ بجٹ سازی کے عمل میں صنعت اور کاروباری طبقے کو مؤثر طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔
کاروباری رہنماؤں کے مطابق ایف وائی 27 بجٹ پاکستان میں صنعتوں کو خطے کے مطابق سستی توانائی، کم شرح سود اور کاروبار دوست ٹیکس پالیسی فراہم کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
انہوں نے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو 18 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے اور صنعتوں پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے مطابق کم ٹیکس شرحیں سرمایہ کاری اور پیداوار سرگرمیوں کو فروغ دیں گی۔
کاروباری برادری نے برآمدات میں کمی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالی سال میں برآمدات میں کمی دیکھی گئی ہے اور اگر پالیسیوں میں تبدیلی نہ آئی تو آئندہ سال مزید کمی کا خدشہ موجود ہے۔ انہوں نے نئے برآمد کنندگان کے لیے مراعات اور آسان ٹیکس ریفنڈ نظام کی بھی سفارش کی۔
ایف وائی 27 بجٹ پاکستان پر گفتگو کے دوران پالیسیوں کے تسلسل اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ کاروباری شخصیات کا کہنا تھا کہ بار بار پالیسی تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتی ہیں اور کاروباری منصوبہ بندی کو مشکل بناتی ہیں۔
اس کے علاوہ صنعتی نمائندوں نے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس فری آمدن کی حد بڑھانے اور مزدوروں کی اجرتوں میں اضافہ کرنے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ متوازن اور کاروبار دوست بجٹ معاشی ترقی، برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔