ترک صدر رجب طیب اردوان اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان تلخ بیانات کا تبادلہ ہوا ہے، جس سے اردوان نیتن یاہو کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہوگئی۔ معاملہ نیتن یاہو کے ایک بیان کے بعد سامنے آیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل ترکیہ سے نہیں ڈرتا اور کئی سلطنتوں کے عروج و زوال کے باوجود اسرائیل قائم ہے۔ ان کے بیان پر ترک صدر نے براہ راست ردعمل دیا۔
رجب طیب اردوان نے نیتن یاہو سے سوال کیا کہ وہ کن سلطنتوں کی بات کر رہے ہیں۔ ترک صدر نے کہا کہ اسرائیل کی موجودہ ریاستی تاریخ ان کے خاندان کے افراد کی عمروں کے مقابلے میں بھی بہت مختصر ہے۔
اردوان نے اپنے جواب میں اپنے بھائیوں کی عمروں کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق ان کے بڑے بھائی محمد اردوان 1928 جبکہ ایک اور بھائی حسن اردوان 1929 میں پیدا ہوئے تھے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان تازہ بیان بازی ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ اردوان اسرائیلی پالیسیوں خصوصاً غزہ میں جاری جنگ پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں۔
تازہ اردوان نیتن یاہو تنازع دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ علاقائی سلامتی، اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فلسطینی مسئلے پر دونوں حکومتوں کے مؤقف ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔
دونوں رہنماؤں کے بیانات کے بعد ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان سیاسی کشیدگی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ان کے مختلف علاقائی مؤقف مستقبل میں بھی سخت بیانات کا سبب بن سکتے ہیں۔