یورپی یونین بچوں کی آن لائن حفاظت بہتر بنانے کے لیے یورپی یونین بچوں کی سوشل میڈیا رسائی سے متعلق نئی قانون سازی پر کام کر رہی ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن نے کہا ہے کہ بچوں کو سوشل میڈیا تک مرحلہ وار اور عمر کے مطابق رسائی دی جانی چاہیے تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے ماہرین، ڈاکٹروں، اساتذہ، والدین اور نوجوان نمائندوں پر مشتمل ایک آزاد پینل کی سفارشات موصول ہونے کے بعد کہا کہ اس بات پر وسیع اتفاق رائے موجود ہے کہ بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنے کی کم از کم عمر مقرر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق مقصد بچوں کی رسائی روکنا نہیں بلکہ انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔
ماہرین نے سفارش کی کہ شیر خوار اور کم عمر بچوں کو اسکرین سے مکمل طور پر دور رکھا جائے۔ تین سے بارہ سال کی عمر کے بچوں کو صرف نگرانی میں عمر کے مطابق ڈیجیٹل آلات اور سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، جبکہ 13 سے 18 سال کے نوجوانوں کو حفاظتی خصوصیات رکھنے والے پلیٹ فارمز پر بتدریج زیادہ خودمختاری دی جائے۔
ارسولا وان ڈیر لیئن نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثابت کریں کہ ان کی خدمات بچوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں۔ ان کے مطابق یورپ میں ہر نئی ڈیجیٹل سروس تیار کرنے والی کمپنی اپنے صارفین کی حفاظت کی بھی ذمہ دار ہوگی۔
یورپی کمیشن رواں سال کے دوسرے نصف میں اس حوالے سے ایک قانونی تجویز پیش کرے گا۔ اس قانون کا مقصد تمام 27 رکن ممالک کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنا ہے تاکہ مختلف ممالک میں الگ الگ عمر کی حد مقرر کرنے کے بجائے یکساں پالیسی اپنائی جا سکے۔
فرانس، یونان اور اسپین سمیت کئی یورپی ممالک بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے حق میں ہیں، جبکہ بعض ممالک جیسے ایسٹونیا مکمل پابندی کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسی اختلاف کے باعث یورپی یونین ایک متوازن اور مشترکہ حل تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یورپی یونین نے حالیہ مہینوں میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھایا ہے تاکہ وہ بچوں کو زیادہ دیر تک آن لائن رکھنے والی عادت ساز خصوصیات ختم کریں۔ یورپی یونین بچوں کی سوشل میڈیا رسائی سے متعلق مجوزہ قانون سے توقع ہے کہ عمر کی تصدیق، محفوظ پلیٹ فارم ڈیزائن اور صارفین کے بہتر تحفظ کو ایک جامع پالیسی کے تحت نافذ کیا جائے گا۔