وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی حکومت مذاکرات سے انکار نہیں کر رہی، تاہم عمران خان کی رہائی کا معاملہ عدالت سے متعلق ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف کو سنجیدہ مذاکرات کرنے کا مشورہ دیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت پہلے بھی واضح کر چکی ہے کہ عمران خان کی رہائی مذاکرات کے ذریعے نہیں ہوسکتی۔ ان کے مطابق قانونی حیثیت اور رہائی سے متعلق معاملات کا مناسب فورم عدالت ہے۔
وزیر قانون نے جلسوں اور لانگ مارچ کے ذریعے عمران خان کی رہائی کی کوششوں کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آئینی اور قانونی طریقہ کار موجود ہے، جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے سے متعلق حکم پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق عدالت نے طبی معائنے کا حکم دیا تھا، جس پر عمل ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عدالتی حکم پر عملدرآمد میں کوئی کمی بیشی رہ گئی ہے تو اس معاملے کو عدالت ہی دیکھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق جلسوں یا سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے کے بعد حکومت کے پاس مذاکرات شروع کرنے کا موقع موجود ہے۔ ان کے مطابق حکومت ایک قدم آگے بڑھائے تو بات چیت شروع ہوسکتی ہے۔
علی ظفر نے کہا کہ 27 ستمبر سے قبل اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کو باضابطہ مذاکرات نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کمیٹیوں کے ذریعے بند کمرے میں ہونے چاہئیں، جبکہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ بدستور طے شدہ ہے۔