AI chatbot murder case Pakistan

اے آئی چیٹ بوٹ سے قتل کی منصوبہ بندی سے متعلق سوالات، دو پاکستانی نوجوان گرفتار

پاکستان میں مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت (AI) چیٹ بوٹ سے قتل سے متعلق معلومات اور منصوبہ بندی میں مدد لینے والے دو نوجوانوں کو گرفتار کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں واقعات ایک دوسرے سے الگ تھے اور دونوں نوجوانوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا۔

’دی نیوز‘ میں شائع ہونے والی عمر چیمہ کی رپورٹ کے مطابق دونوں نوجوان امریکی جرائم پر مبنی ڈرامہ سیریز دیکھنے کے شوقین تھے۔ ایک نوجوان کا تعلق بہاولپور جبکہ دوسرے کا کراچی سے بتایا گیا ہے۔ دونوں نے مبینہ طور پر اپنے اپنے طور پر جرائم سے متعلق منصوبہ بندی کی اور اس دوران AI چیٹ بوٹ ’کلاڈ‘ سے سوالات کیے۔

رپورٹ کے مطابق بہاولپور سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے مبینہ طور پر اپنے والد کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وہ امریکی ڈرامہ سیریز ’بریکنگ بیڈ‘ کے ایک کردار سے متاثر تھا، جس میں گھر پر کیمیکل تیار کرنے اور زہر کے ذریعے قتل جیسے واقعات دکھائے گئے ہیں۔ نوجوان نے اسی نوعیت کے سوالات چیٹ بوٹ سے کیے اور کیمیکلز کی مقدار سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب چیٹ بوٹ پر ہونے والی گفتگو میں والد کو قتل کرنے اور کیمیکلز کی مقدار میں ردوبدل سے متعلق سوالات سامنے آئے تو چیٹ بوٹ کی کمپنی کی جانب سے معاملہ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی تک پہنچایا گیا۔ بعدازاں یہ معلومات پاکستانی حکام تک بھی پہنچیں اور نوجوان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق تفتیش کے دوران نوجوان کے والدین سے بھی پوچھ گچھ کی گئی، تاہم بعد میں انہوں نے اپنے بیٹے کو معاف کردیا۔ اس واقعے میں نوجوان کے مبینہ ارادے اور چیٹ بوٹ سے ہونے والی گفتگو تحقیقات کا اہم حصہ بنے۔

دوسرا واقعہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کا بتایا گیا ہے، جس نے مبینہ طور پر ایک پولیس افسر کے بیٹے کے خلاف انتقامی کارروائی کی بات چیٹ بوٹ سے کی۔ رپورٹ کے مطابق نوجوان کا کہنا تھا کہ پولیس افسر کے بیٹے نے اس کے والد کی بے عزتی کی، جس پر وہ بدلہ لینے اور اسے قتل کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق کراچی کے نوجوان نے امریکی کرائم سیریز ’ڈیکسٹر‘ سے متاثر ہوکر مبینہ طور پر پولیس افسر کے بیٹے کو اغوا کرکے گٹر میں پھینکنے کا منصوبہ ذہن میں بنایا تھا۔ اس نے اس حوالے سے بھی AI چیٹ بوٹ ’کلاڈ‘ سے سوالات کیے، جنہیں مبینہ طور پر متعلقہ حکام تک پہنچایا گیا۔ تاہم تفتیش کے دوران نوجوان نے پولیس کو بتایا کہ وہ صرف ذہن میں ایک کہانی بنا رہا تھا اور حقیقت میں ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین