برطانیہ روسی سائبر پابندیاں

برطانیہ نے روسی سائبر نیٹ ورکس پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

برطانیہ نے برطانیہ روسی سائبر پابندیاں کے تحت روسی انٹیلی جنس سے منسلک افراد اور اداروں پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ان سائبر اور ہائبرڈ سرگرمیوں کا مقابلہ کرنا ہے جنہیں یورپ میں عدم استحکام اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

برطانوی حکومت نے کہا کہ نئی پابندیاں 24 افراد اور اداروں پر عائد کی گئی ہیں، جن پر روسی انٹیلی جنس کے لیے سائبر حملوں اور پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے کارروائیاں کرنے کا الزام ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدام یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعاون کے تحت کیا گیا ہے۔

پابندیوں کی فہرست میں روسی فوجی انٹیلی جنس ادارے جی آر یو سے وابستہ اعلیٰ عہدیدار ویچیسلاو سٹافییف، ایوان سینن اور ایوان کاسیانینکو بھی شامل ہیں۔ برطانوی حکام کا الزام ہے کہ ان افراد نے روسی سائبر اور ہائبرڈ کارروائیوں کی نگرانی اور ہدایات فراہم کیں۔

لندن میں روسی سفارت خانے نے پابندیوں پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ روس ماضی میں بھی ایسے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور مغربی پابندیوں کو سیاسی نوعیت کے اقدامات قرار دیتا آیا ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین کے رکن ممالک روس کے خلاف اکیسویں پابندیوں کے پیکیج پر تاحال اتفاق رائے حاصل نہیں کر سکے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ تقریباً 250 نئے افراد اور اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے پر پیش رفت متوقع ہے، تاہم وسیع پیکیج پر ابھی مزید مشاورت درکار ہے۔

کاجا کالاس کے مطابق مجوزہ فہرست اب تک کی سب سے بڑی توسیع ہوگی، لیکن کچھ اہم معاملات ابھی حل طلب ہیں۔ اسی دوران لتھوانیا کے وزیر خارجہ نے روسی بحری خدمات اور مائع قدرتی گیس پر مزید سخت پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو معاشی مفادات پر سکیورٹی کو ترجیح دینی چاہیے۔

برطانیہ روسی سائبر پابندیاں مغربی ممالک کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد روس پر سفارتی، اقتصادی اور سائبر شعبوں میں مزید دباؤ بڑھانا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین