وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ملک بھر میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی ضوابط پر عملدرآمد کو مزید مؤثر بنانا اور متعلقہ معلومات کو ایک منظم نظام کے تحت جمع کرنا ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی جانب سے تمام ایڈیشنل ڈائریکٹرز جنرل اور زونل ڈائریکٹرز کو باقاعدہ احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ ان احکامات کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں خصوصی ایف اے ٹی ایف ڈیسک قائم کیے جائیں گے تاکہ ادارے کی کارکردگی اور نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق نئے قائم ہونے والے ڈیسک کے ذریعے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے مقرر کردہ چھ مختلف اہداف سے متعلق اقدامات کی تفصیلات جمع کی جائیں گی۔ یہ معلومات پاکستان کی ممکنہ باہمی جانچ (Mutual Evaluation) کے دوران پیش کی جائیں گی، جس کا انعقاد رواں سال کی آخری سہ ماہی میں متوقع ہے۔
ایف آئی اے نے اپنے تمام ونگز اور علاقائی دفاتر کو ہدایت جاری کی ہے کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق ذمہ داریوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تمام متعلقہ شعبوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور بروقت کارروائی ضروری ہوگی۔
جاری کردہ ہدایات کے مطابق نامزد فوکل پرسنز کو سات روز کے اندر احکامات پر عملدرآمد مکمل کرنے کا کہا گیا ہے۔ اس کے بعد پیش رفت سے متعلق ایک جامع رپورٹ تیار کرکے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو پیش کی جائے گی۔
حکام نے مزید بتایا کہ احکامات کے ساتھ سات نکاتی ٹرمز آف ریفرنس (TORs) پر مشتمل ایک پروفارما بھی منسلک کیا گیا ہے۔ اس پروفارما کا مقصد رپورٹنگ کے طریقہ کار کو یکساں بنانا اور مطلوبہ معلومات کے حصول کو آسان بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایف اے ٹی ایف ڈیسک کا قیام پاکستان کے مالیاتی نظام میں شفافیت، نگرانی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق قانون نافذ کرنے کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ایف آئی اے کے ساتھ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دیے گئے اہداف پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔