غزہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ پیر کے روز جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں دو فلسطینی جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب علاقے میں مسلسل فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق خان یونس کے مغرب میں المواصی کے العطار علاقے میں شہریوں کے ایک گروہ کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں دو افراد جان سے گئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔
ایک الگ واقعے میں خان یونس کے شمال مغرب میں واقع اسداء سٹی کے قریب ایک گاڑی پر ڈرون حملہ کیا گیا جس میں تین افراد زخمی ہوئے۔ اسی دوران وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں بھی ایک مقام کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 72 ہزار 980 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 73 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار اکتوبر 2023 سے جاری تنازعے کے دوران ہونے والے جانی نقصانات کو ظاہر کرتے ہیں۔
صحت حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید لاشیں اور زخمی افراد اسپتالوں میں لائے گئے۔ ان کے مطابق اب بھی سیکڑوں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں یا ایسے علاقوں میں موجود ہیں جہاں امدادی ٹیموں کی رسائی ممکن نہیں۔
دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جہاں فلسطینی ذرائع کے مطابق 11 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ مختلف شہروں اور قصبوں میں فوجی سرگرمیوں اور املاک کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی اور کشیدگی میں کمی کے مطالبات بدستور جاری ہیں۔