گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے لیے جاری انتخابی مہم مقررہ وقت پر اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ الیکشن قوانین کے مطابق رات 12 بجے کے بعد کسی بھی قسم کی انتخابی سرگرمی، جلسے، ریلیاں اور تشہیری مہم چلانے پر پابندی نافذ ہو گئی ہے۔ اب امیدوار اور سیاسی جماعتیں ووٹنگ کے دن کا انتظار کر رہی ہیں۔
اس بار گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 403 امیدوار انتخابی میدان میں موجود ہیں۔ انتخابی عمل 7 جون کو منعقد ہوگا، جس کے دوران لاکھوں ووٹرز اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ کاسٹ کریں گے۔ الیکشن کمیشن اور مقامی انتظامیہ نے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔
انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن اور شفاف انداز میں مکمل ہو سکے۔ مقامی پولیس اور گلگت بلتستان اسکاوٹس کے اہلکار حساس اور اہم پولنگ اسٹیشنز پر تعینات کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 7 جون کو مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ انتخابی میدان میں 396 مرد اور 8 خواتین امیدوار حصہ لے رہی ہیں، جو مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی تعداد پر نظر ڈالیں تو پاکستان پیپلز پارٹی 23 امیدواروں کے ساتھ سب سے نمایاں جماعتوں میں شامل ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 22 امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے 15 اور پاکستان مسلم لیگ کے 11 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
علاوہ ازیں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9، مجلس وحدت مسلمین کے 7 جبکہ جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ کے 6، 6 امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 266 آزاد امیدوار بھی انتخابی دوڑ کا حصہ ہیں، جس سے کئی حلقوں میں سخت اور کانٹے دار مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔