انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کے فاسٹ بولر حارث رؤف پر انگلینڈ کے خلاف میچ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کردیا۔ یہ واقعہ لاہور میں پاکستان، انگلینڈ اور سری لنکا کی سہ ملکی ون ڈے سیریز کے دوران پیش آیا۔
آئی سی سی کے مطابق حارث رؤف کا رویہ کھیل کی روح کے منافی تھا، جس پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی۔ یہ واقعہ 25 اکتوبر 2026 کو پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے ون ڈے میچ کے دوران پیش آیا۔
جرمانے کے ساتھ حارث رؤف کو باضابطہ تنبیہ بھی جاری کی گئی۔ آئی سی سی نے یہ کارروائی ضابطہ اخلاق کی ان شقوں کے تحت کی جو میدان میں نامناسب رویے اور کھیل کی روح کے خلاف طرز عمل سے متعلق ہیں۔
آئی سی سی نے فاسٹ بولر کو ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا، جس کے بعد ان کے مجموعی ڈی میرٹ پوائنٹس کی تعداد پانچ ہوگئی۔ یہ تفصیلات 28 اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والی رپورٹس میں بیان کی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ پاکستان کی اننگز کے آخری اوورز میں پیش آیا، جب حارث رؤف اور انگلینڈ کے آل راؤنڈر ول جیکس کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ وائیڈ بال کی اپیل کے بعد صورتحال کشیدہ ہوئی اور امپائرز کو بھی مداخلت کرنا پڑی۔
آئی سی سی کا ضابطہ اخلاق کرکٹ میں نظم و ضبط اور کھیل کی روح برقرار رکھنے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑیوں کو جرم کی نوعیت کے مطابق جرمانے، تنبیہ یا ڈی میرٹ پوائنٹس دیے جا سکتے ہیں۔