آئی ایم ایف

آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1.3 ارب ڈالر کی منظوری دے دی

عالمی مالیاتی فنڈ  (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اقتصادی جائزوں کی منظوری دے دی ہے۔ ادارے کے مطابق پاکستان نے مشکل علاقائی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھا۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تیسرے جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے دوسرے جائزے کی منظوری دی۔ اس منظوری کے بعد پاکستان کو فوری طور پر 1.1 ارب ڈالر کی نئی قسط موصول ہوگی، جبکہ کلائمیٹ فنڈنگ کی مد میں مزید 22 کروڑ ڈالر بھی فراہم کیے جائیں گے۔

اعلامیے کے مطابق دونوں پروگرامز کے تحت پاکستان کو اب تک مجموعی طور پر 4.8 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان کی معاشی اصلاحات اور حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد مثبت سمت میں جاری ہے، جس کے باعث مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری آئی۔

آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں کمی دیکھی گئی جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ بھی متوازن رہا۔ ادارے کے مطابق ملکی معیشت میں بتدریج بہتری آرہی ہے اور جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ متوقع ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کا پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 1.6 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر دسمبر 2025 تک بڑھ کر 16 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے، جو بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دی جائے اور ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ پائیدار معاشی ترقی کیلئے ریونیو اصلاحات ناگزیر ہیں، جبکہ توانائی اور سرکاری اداروں کے شعبوں میں بھی اصلاحات جاری رکھنا ضروری ہوگا۔

وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی منظوری کو پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر عالمی اعتماد کا اظہار قرار دیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ نئی قسط اور کلائمیٹ فنڈنگ سے زرمبادلہ ذخائر مستحکم ہوں گے اور معیشت کو مزید سہارا ملے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین