بھارت وینزویلا توانائی شراکت داری کو اس وقت نئی تقویت ملی جب دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ پیش رفت وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے دورۂ بھارت کے دوران سامنے آئی۔
نئی دہلی میں ہونے والی ملاقات میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور ڈیلسی روڈریگیز نے توانائی کے مختلف منصوبوں پر بات چیت کی۔ حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
بھارت وینزویلا توانائی شراکت داری ایسے وقت میں اہمیت اختیار کر رہی ہے جب عالمی تیل کی سپلائی خلیجی بحران سے متاثر ہے۔ بھارت اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
وینزویلا نے بھارت کو توانائی کے شعبے میں ایک ترجیحی شراکت دار قرار دیا ہے۔ دورے کے دوران ڈیلسی روڈریگیز کی توانائی کمپنیوں اور ریفائنری حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں تاکہ مزید تعاون کے امکانات تلاش کیے جا سکیں۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت وینزویلا سے خام تیل درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ رواں سال پابندیوں میں نرمی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تیل کی تجارت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
توانائی کے علاوہ معدنیات، ادویات، سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔ دونوں حکومتیں اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھارت وینزویلا توانائی شراکت داری مستقبل میں دونوں ممالک کے لیے اہم معاشی فوائد لا سکتی ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے دوران یہ تعاون سپلائی کے استحکام اور تجارتی مواقع میں اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔