بھارتی فلمساز سنجے گپتا کا انتقال 59 برس کی عمر میں ہوگیا۔ وہ ممبئی میں اپنی رہائش گاہ پر سر پر چوٹ لگنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ فلمساز اشوک پنڈت نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ممبئی پولیس کے مطابق سنجے گپتا 30 اکتوبر کی رات اپنی رہائش گاہ کے باتھ روم میں گر گئے تھے۔ اہل خانہ نے اگلی صبح انہیں مردہ حالت میں پایا اور پولیس کو اطلاع دی۔ واقعہ رات گئے پیش آنے کے باعث گھر میں موجود افراد کو فوری طور پر اس کا علم نہیں ہوسکا۔
ممبئی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ واقعے کے وقت گھر میں دیگر افراد بھی موجود تھے۔ تاہم رات ہونے کی وجہ سے اہل خانہ کو فوری طور پر صورتحال کا پتا نہیں چل سکا۔ پولیس کے مطابق اہل خانہ نے تاحال واقعے کے حوالے سے کسی شبہے کا اظہار نہیں کیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد فرانزک ٹیم بھی فلمساز کی رہائش گاہ پہنچ گئی۔ حکام کی جانب سے ضروری کارروائی جاری ہے۔ دوسری جانب فلمساز اشوک پنڈت نے انسٹاگرام پر سنجے گپتا کی موت کی تصدیق کی اور بتایا کہ انہیں گھر میں سر پر چوٹ لگی تھی۔
سنجے گپتا بالی وڈ کی متعدد معروف فلموں کی ہدایت کاری کے لیے جانے جاتے تھے۔ ان کی نمایاں فلموں میں کانٹے، قابل اور شوٹ آؤٹ ایٹ وڈالا شامل ہیں۔ انہوں نے شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا، جذبہ اور ایسڈ فیکٹری جیسی فلمیں بھی پروڈیوس کیں۔
انہوں نے 1994 میں فلم آتش: فیل دی فائر سے فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ اس فلم میں آدتیہ پنچولی اور سنجے دت نے اداکاری کی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے رام شاسترا، خوف، جنگ، مسافر اور زندہ سمیت متعدد فلموں کی ہدایت کاری، تحریر اور پروڈکشن کے فرائض انجام دیے۔
سنجے گپتا کا آخری منصوبہ دی مرانڈا برادرز تھا، جو 2025 میں ریلیز ہوا۔ انہوں نے اس فلم کی ہدایت کاری اور پروڈکشن کی تھی، جس میں ہرش وردھن رانے اور میزان جعفری نے مرکزی کردار ادا کیے۔ ان کے انتقال سے بھارتی فلم انڈسٹری نے ایک معروف فلمساز کھو دیا ہے۔