سنگاپور تعلقات

پاکستان، سنگاپور میں براہ راست پروازوں کی بحالی پر بات چیت

پاکستان اور سنگاپور نے کاروباری سرگرمیوں، سفر اور عوامی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے براہ راست پروازوں کی ممکنہ بحالی پر بات چیت کی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو اسلام آباد میں سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن کے ساتھ ملاقات کے بعد اس پیش رفت کا اعلان کیا۔ دونوں ممالک نے تجارت، ٹیکنالوجی اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان میں معاشی تعاون، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تحقیق اور جدت کے شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ثقافتی، تعلیمی اور نوجوانوں کے تبادلوں کو بھی فروغ دینا چاہتے ہیں۔ سنگاپور میں کام کرنے والے پاکستانی ماہرین دونوں ملکوں کے درمیان اہم رابطے کا ذریعہ ہیں۔

اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان نے سنگاپور میں اپنے ہائی کمیشن کے تحت تجارت اور سرمایہ کاری کا دفتر دوبارہ کھول دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری شراکت داری کو فروغ دینا اور تجارتی روابط مضبوط بنانا ہے۔ دونوں ممالک نے کاروباری وفود کے تبادلوں اور چیمبرز آف کامرس کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ مجوزہ براہ راست پروازیں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی روابط کو مزید سہولت فراہم کر سکتی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اسلام آباد میں سنگاپور کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر غور کیا۔ بات چیت میں بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور خدمات کے شعبے بھی شامل تھے۔ شہباز شریف نے سنگاپور کی معاشی ترقی اور جدت کے میدان میں کامیابیوں کو سراہا۔

دونوں ممالک نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تعاون کی ایک اہم مفاہمتی یادداشت کا بھی تبادلہ کیا۔ اس معاہدے میں پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سنگاپور سول ڈیفنس فورس شامل ہیں۔ اس کا مقصد قدرتی آفات سے پہلے تیاری، ہنگامی حالات میں ردعمل اور نقصان سے بچاؤ کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باقاعدہ سیاسی مشاورت اور اعلیٰ سطح کے دوروں کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔

ملاقاتوں میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے محفوظ سمندری راستوں اور تجارتی سپلائی چین کی بلا تعطل فراہمی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے فلسطین کے لیے جون 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اسحاق ڈار نے اپنے سنگاپورین ہم منصب کو مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف سے بھی آگاہ کیا۔

سنگاپور کے وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، سائنس، ٹیکنالوجی اور ثقافتی روابط میں مزید تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا دورہ دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد کسی سنگاپورین وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہوا ہے، جبکہ سنگاپور 2027 میں آسیان کی صدارت سنبھالے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین