آبنائے ہرمز

ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب دو تیل بردار جہاز روک لیے

ایران کی پاسداران انقلاب بحریہ نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں دو تیل بردار جہازوں کو مختلف واقعات کے بعد روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی بحریہ کے مطابق دونوں جہازوں نے ریڈیو وارننگ نظر انداز کی اور اس اہم سمندری گزرگاہ سے غیر مجاز راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔ یہ پیش رفت خطے میں بحری سلامتی سے متعلق کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔

جمعے کو جاری بیان کے مطابق ایران کی اسلامی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے دونوں جہازوں کو اہم تجارتی سمندری راستے کے قریب پیش آنے والے واقعات سے منسلک قرار دیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ریڈیو کے ذریعے خبردار کیے جانے کے باوجود جہازوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔ اس کے بعد ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں دونوں جہازوں کو روک لیا۔

پاسداران انقلاب بحریہ نے جہازوں کے اختیار کردہ راستے کو غیر مجاز قرار دیا ہے۔ تاہم دستیاب بیان میں دونوں جہازوں کے نام، ملکیت یا ان میں موجود تیل کی مقدار سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ جہاز ایرانی تحویل میں رہیں گے یا انہیں دوبارہ سفر کی اجازت کب دی جائے گی۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات پہنچائی جاتی ہیں۔ اس راستے سے تیل بردار جہازوں کی بڑی تعداد گزرتی ہے۔ یہاں بحری آمدورفت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔

دوسری جانب ایران نے جمعے کو یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کی افواج نے مشرقی آبنائے ہرمز میں امریکا کا ایک بغیر پائلٹ بحری جہاز تباہ کر دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد اہم سمندری گزرگاہ میں فوجی سرگرمیوں اور بحری سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ تاہم ایران نے اس واقعے کی تکنیکی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

امریکی فوج نے ایران کے بغیر پائلٹ بحری جہاز تباہ کرنے کے دعوے کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی۔ رپورٹ کے وقت اس واقعے کی کوئی آزادانہ تصدیق بھی سامنے نہیں آئی تھی۔ اس لیے دونوں ممالک کے درمیان پیش آنے والے مبینہ واقعے کی مکمل صورتحال واضح نہیں ہو سکی۔

یہ دونوں پیش رفت آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح میں جاری کشیدگی کو نمایاں کرتی ہیں۔ دو تیل بردار جہازوں کو روکنے اور امریکی بغیر پائلٹ بحری جہاز تباہ کرنے کے ایرانی دعوے نے خطے میں بحری سلامتی کی صورتحال کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ تاہم دونوں واقعات کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے لیے مزید معلومات کا انتظار ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین