بحری سلامتی

پاکستان کا بحری سلامتی کے لیے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور

پاکستان نے بحری سلامتی مضبوط بنانے اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ اور منصفانہ استعمال پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنا عالمی امن و سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یہ مؤقف پیش کیا۔

‘جدید ٹیکنالوجی اور بحری سلامتی: امن و سلامتی پر اثرات’ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں عثمان جدون نے سمندری سرگرمیوں کے تحفظ میں جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنایا جائے اور تمام ممالک کو جدید ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق ان ٹیکنالوجیز کو انسانی ہمدردی کے کاموں، خصوصاً بحری قزاقی کے خطرات سے دوچار سمندری کارکنوں کی مدد کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔

عثمان جدون نے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS) کو عالمی بحری نظام کی بنیادی قانونی دستاویز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کنونشن کے تحت قائم ہونے والے قانونی نظام کا تحفظ اور فروغ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق سمندری قوانین پر عمل درآمد بین الاقوامی تعاون اور سمندری استحکام کے لیے ضروری ہے۔

پاکستانی مندوب نے بین الاقوامی تجارتی بحری راستوں میں رکاوٹوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے اور تجارتی جہازوں پر حملوں کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق ایسے واقعات عالمی توانائی کی فراہمی، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کو تیزی سے متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ان اہم سمندری راستوں سے متاثرہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت بھی دہرائی۔

عثمان جدون نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور ان کے عملے پر حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا کہ وہ اس اہم سمندری گزرگاہ کو بین الاقوامی تجارت کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسے حملے بحری سلامتی کو نقصان پہنچاتے اور علاقائی امن، استحکام اور ترقی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر سعودی عرب پر ان حملوں کے اثرات کا ذکر کیا، جو حوثی ملیشیا کی جارحیت کا سامنا کر چکا ہے۔ عثمان جدون نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کا تحفظ محفوظ بین الاقوامی بحری راستوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔

پاکستان کا یہ مؤقف اہم سمندری گزرگاہوں کے تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق بڑھتے ہوئے عالمی خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کے مطابق مصنوعی ذہانت کو بحری تحفظ مضبوط بنانے کے لیے استعمال ہونا چاہیے، نہ کہ نئے سکیورٹی خطرات پیدا کرنے کے لیے۔ محفوظ تجارتی راستوں، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور سمندری کارکنوں کے تحفظ کو عالمی استحکام کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین