اسلام آباد: پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی سے متاثرہ کیسز کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد صحت عامہ کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ وزارت قومی صحت نے قومی اسمبلی میں صوبہ وار تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر 5 ہزار 885 بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔ ان اعداد و شمار نے بچوں میں ایچ آئی وی کی روک تھام، بروقت تشخیص اور علاج کی سہولیات بہتر بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
وزارت قومی صحت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق سندھ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جہاں 3 ہزار 900 بچے اس وائرس سے متاثر ہیں۔ پنجاب دوسرے نمبر پر ہے، جہاں متاثرہ بچوں کی تعداد ایک ہزار 765 بتائی گئی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں 139 بچوں میں ایچ آئی وی کی موجودگی رپورٹ ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 46، اسلام آباد میں 30، آزاد کشمیر میں 4 اور گلگت بلتستان میں ایک بچہ ایچ آئی وی سے متاثر ہے۔ صوبہ وار اعداد و شمار کے مطابق سندھ اور پنجاب میں متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد سب سے زیادہ ہے، جس سے متعلقہ علاقوں میں حفاظتی اقدامات اور طبی نگرانی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
یہ تفصیلات پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شرمیلا فاروقی کے سوال پر وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں پیش کیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق ایچ آئی وی کی مزید منتقلی روکنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
ستمبر 2026 کی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی مجموعی تخمینہ شدہ تعداد 4 لاکھ 17 ہزار 214 ہے۔ ان میں سے 92 ہزار 148 افراد رجسٹرڈ ہیں، جبکہ 67 ہزار 878 مریض اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) حاصل کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایچ آئی وی کی تشخیص اور علاج تک رسائی بڑھانے کی ضرورت موجود ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق بروقت ٹیسٹنگ، محفوظ طبی طریقہ کار، آگاہی مہمات اور متاثرہ بچوں کو مسلسل علاج کی فراہمی بیماری کی مزید منتقلی روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔