ایران یورینیئم افزودگی معاہدہ کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران یورینیئم کی افزودگی روکنے اور اعلیٰ افزودہ مواد ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ پیش رفت اس ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت کا حصہ ہے جس کا مقصد جنگ کے خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک کی تشکیل ہے۔ ایران یورینیئم افزودگی معاہدہ اس وقت اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران اس وقت معاہدے کے بہت قریب ہیں اور اب تک کی تاریخ میں یہ سب سے اہم پیش رفت ہے۔ ایران یورینیئم افزودگی معاہدہ پر براہ راست اور ثالثی سطح پر بات چیت جاری ہے۔
مجوزہ منصوبے کے مطابق 30 دن کی مذاکراتی مدت رکھی جائے گی جس میں پابندیوں اور ایٹمی پروگرام پر تفصیلی بات ہوگی۔ ایران یورینیئم افزودگی معاہدہ میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔
سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ ایران نے مبینہ طور پر اعلیٰ افزودہ یورینیئم بیرون ملک منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جو اس کی پالیسی میں بڑی تبدیلی ہے۔ ایران یورینیئم افزودگی معاہدہ اس حوالے سے اہم موڑ بن سکتا ہے۔
اس کے بدلے امریکا ایران کے منجمد اثاثے جاری کرے گا اور پابندیوں میں نرمی کرے گا۔ ایران یورینیئم افزودگی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کا اہم مرحلہ ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق ایران کے اندرونی اختلافات اور سیاسی پیچیدگیاں اب بھی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ایران یورینیئم افزودگی معاہدہ کا حتمی فیصلہ آئندہ 48 گھنٹوں میں متوقع ہے۔