مائیکل والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے بعد چین نے ایران سے اپنے تعلقات میں محتاط رویہ اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔ امریکی مندوب نے یہ بیان اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران دیا۔
اقوام متحدہ میں گفتگو کرتے ہوئے مائیکل والٹز نے کہا کہ چین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی تعاون ضروری ہے۔
امریکی مندوب نے مزید دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ دورے کے بعد چین کی پالیسی میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے اور بیجنگ اب ایران کے معاملے پر زیادہ محتاط مؤقف اختیار کررہا ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے حق میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں چین کے سفیر نے امریکی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی امریکی قرارداد کا متن اور اس کا وقت مناسب نہیں۔
چینی سفیر نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں دونوں فریقوں کو سنجیدہ اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کی طرف راغب کرنا زیادہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس مرحلے پر کسی نئی قرارداد کی منظوری کشیدگی کم کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرسکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ، چین اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کشمکش عالمی سیاست اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ خصوصاً آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے سے متعلق کسی بھی پیش رفت کو عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔