ایران نے ایران امریکا مذاکرات کو اپنی شرائط کی منظوری سے مشروط کرتے ہوئے واشنگٹن کے ساتھ بات چیت سے انکار کردیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو ایک بیان میں یہ مؤقف ظاہر کیا، جو ایکس پر شیئر کیا گیا۔
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ جب تک امریکا ایران کی شرائط تسلیم نہیں کرتا، مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران فی الحال اپنی شرائط پر پیش رفت کے بغیر واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔
ایرانی قانون ساز نے مذاکرات کے معاملے پر واضح اور سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی شرائط پوری ہونے تک کسی بھی بات چیت کو بے نتیجہ سمجھا جائے گا۔ اس طرح مستقبل کے سفارتی رابطوں کے لیے ایرانی مطالبات اہم حیثیت اختیار کرگئے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران امریکا مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک اہم اور حساس معاملہ ہیں۔ آئندہ مذاکرات کا امکان اس بات پر منحصر ہوسکتا ہے کہ دونوں فریق اپنے اختلافات کم کرنے اور قابل قبول شرائط طے کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔
No negotiations.
Until Iran’s terms are met, talks are futile.— ابراهیم عزیزی (@Ebrahimazizi33) September 12, 2026
عزیزی کے بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے ایک مخصوص فریم ورک چاہتا ہے۔ تہران بظاہر ایسی بات چیت میں شامل نہیں ہونا چاہتا جس میں اس کی بنیادی شرائط کو پہلے سے تسلیم نہ کیا جائے۔
ایرانی مؤقف سفارتی کوششوں کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔ اگر امریکا ایران کی شرائط قبول نہیں کرتا تو قریبی مستقبل میں ایران امریکا مذاکرات کے امکانات محدود رہ سکتے ہیں۔ تاہم، بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے جاری رہ سکتے ہیں۔
فی الحال ایران کا مؤقف واضح ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اسی صورت میں بامعنی ہوں گے جب تہران کی شرائط پر توجہ دی جائے۔ ابراہیم عزیزی کا بیان اس مؤقف کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ ایران امریکا مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے ایرانی شرائط پر اتفاق ضروری ہوگا۔