آبنائے ہرمز ٹرانزٹ فیس

ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا اشارہ

آبنائے ہرمز ٹرانزٹ فیس کا معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ ایران نے اشارہ دیا ہے کہ اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے نئے قواعد متعارف کرائے جا سکتے ہیں جن میں ممکنہ فیس بھی شامل ہوگی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی لیکن اس کے انتظام و انصرام کے لیے ایران اور عمان نئی شرائط طے کریں گے۔ ان کے مطابق اس راستے سے گزرنے والے جہازوں سے فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض فیس وصول کی جا سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے ماضی میں عالمی تیل کی تقریباً پانچواں حصہ ترسیل کیا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اس راستے سے متعلق کسی بھی پالیسی تبدیلی کو عالمی تجارت اور توانائی کے شعبے میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

مجوزہ آبنائے ہرمز ٹرانزٹ فیس ایسے وقت میں زیر بحث آئی ہے جب تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ابھی تک مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکی۔ اگرچہ بعض آئل ٹینکرز نے حالیہ ہفتوں میں اس راستے سے سفر کیا ہے، تاہم مجموعی نقل و حمل اب بھی متاثر ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ مستقبل کے کسی بھی مستقل امن معاہدے میں اسے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ ایرانی حکام کے مطابق فیس کی شرح جہاز کی نوعیت، سامان اور حالات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکہ اس تجویز کی مخالفت کر رہا ہے۔ واشنگٹن پہلے ہی اس معاملے پر اپنے تحفظات ظاہر کر چکا ہے اور بین الاقوامی جہاز رانی پر اضافی مالی بوجھ کی مخالفت کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز ٹرانزٹ فیس کا معاملہ آنے والے دنوں میں عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور بحری نقل و حمل کے حوالے سے اہم موضوع بنا رہے گا۔ کسی بھی نئے نظام کے نفاذ کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین