ایران اسرائیل تنازع

ایران کا اسرائیل کے ساتھ طویل تنازع کے لیے مکمل تیاری کا دعویٰ

بڑھتے ہوئے ایران اسرائیل تنازع کے درمیان ایک ایرانی عسکری ذریعے نے کہا ہے کہ تہران اسرائیل کے ساتھ طویل مدت تک جاری رہنے والی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق عسکری ذریعے نے دعویٰ کیا کہ ایران نے طویل تنازع کا سامنا کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ذریعے کے مطابق اگر اسرائیل اور امریکہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محدود یا مرحلہ وار دباؤ کے ذریعے ایران کے ردعمل کو قابو میں رکھ سکتے ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہوگی۔ ایرانی حکام ماضی میں بھی اس قسم کے بیانات دیتے رہے ہیں۔

حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اسرائیل تنازع مزید پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

ایران نے ایک مرتبہ پھر ان گروہوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جنہیں وہ "محورِ مزاحمت” کا حصہ قرار دیتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تہران اپنے اتحادیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

عسکری ذریعے نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ اس بحران میں مزید ملوث ہوا تو اسے بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کی پالیسیوں میں گہرا تعلق موجود ہے۔

جیسے جیسے ایران اسرائیل تنازع شدت اختیار کر رہا ہے، عالمی برادری کی توجہ سفارتی کوششوں پر مرکوز ہے۔ تاہم حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے حصول کی راہ ابھی بھی مشکل دکھائی دیتی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین