مجتبیٰ خامنہ ای

جنگ کے 6 ماہ بعد بھی ایرانی سپریم لیڈر منظرعام سے غائب

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جنگ کے چھ ماہ بعد بھی منظرعام سے غائب ہیں، جس سے ان کی صحت اور قیادت سے متعلق سوالات بڑھ رہے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی ملک کے معاملات پر قابض ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے جنگ شروع ہونے کے بعد سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا تھا اور ابتدائی فضائی حملوں میں شدید زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ تاہم تقرری کے بعد سے ان کی کوئی تصویر، ویڈیو یا آڈیو پیغام منظرعام پر نہیں آیا۔

ایرانی حکام اور اعلیٰ سطح کے ذرائع کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ مقام سے اہم فیصلے کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اہم رپورٹس وصول کرتے، اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرتے اور بڑے قومی و سکیورٹی معاملات پر حتمی فیصلہ دیتے ہیں۔

ان کے عوام کیلئے پیغامات اب تک تحریری بیانات تک محدود رہے ہیں جنہیں سرکاری نشریاتی اداروں نے پڑھ کر سنایا۔ وہ گزشتہ ماہ اپنے والد کی آخری رسومات میں بھی عوامی طور پر نظر نہیں آئے۔ صدر مسعود پزشکیان نے رواں ماہ ان سے سات گھنٹے طویل ملاقات کا دعویٰ کیا تھا۔

سپریم لیڈر کی طویل غیرحاضری نے ایرانی نظام کے بعض حامیوں میں بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ قم میں ایک بسیج رکن نے کہا کہ سپریم لیڈر کی آواز سننا یا انہیں دیکھنا عوام کا اعتماد بڑھا سکتا ہے۔ اصلاحات کے حامی حلقوں نے ان کی فیصلہ سازی میں موجودگی پر مزید سوالات اٹھائے ہیں۔

دوسری جانب ایران کا سیاسی نظام چھ ماہ کی جنگ کے باوجود برقرار ہے۔ پاسداران انقلاب کا اثر و رسوخ بڑھا ہے جبکہ اعلیٰ سیاسی اور عسکری حکام سکیورٹی اور اہم تزویراتی معاملات سنبھال رہے ہیں۔

جنگ نے ایرانی معیشت پر بھی شدید دباؤ ڈالا ہے اور تیل کی برآمدات پر پابندیوں نے ملکی کرنسی کو کمزور کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل غیرحاضری ایسے وقت میں سیاسی غیر یقینی بڑھا سکتی ہے جب ایران کو جنگ، مذاکرات اور امریکا کے ساتھ تعلقات سے متعلق اہم فیصلے کرنا ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین