ایران امریکا ٹینکر حملے

ایران، امریکا کی جانب سے آئل ٹینکرز پر حملوں میں بڑا اضافہ

ایران امریکا ٹینکر حملے آبنائے ہرمز کے قریب شدت اختیار کرگئے ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ اس نے 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں شپنگ کا بحران مزید بڑھ گیا۔ یہ جنگ شروع ہونے کے بعد جہاز رانی پر حملوں کی سب سے بڑی لہر قرار دی جارہی ہے۔

ایران کے مطابق اس کارروائی سے پہلے امریکا نے 5 ایرانی آئل ٹینکرز کو تباہ کیا تھا۔ تازہ حملوں کے بعد عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اسی دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

امریکی فوج نے کہا کہ اس نے رات کے دوران 5 ایرانی آئل ٹینکرز کو تباہ کیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہاز پر میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی۔ امریکا نے کہا کہ حملوں میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن کے مشرقی علاقے الازرق کے قریب امریکی افواج کے زیر استعمال ایک اڈے پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 2 امریکی بحری جہازوں اور 8 آئل ٹینکرز کو بھی نشانہ بنانے کا کہا ہے۔

دوسری جانب بحری سکیورٹی حکام نے شمالی خلیج اور خلیج عمان میں کئی تجارتی جہازوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات دیں۔ متحدہ عرب امارات کے قریب ایک جہاز کے ایک جانب جھکنے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ خور فکان بندرگاہ پر ایل این جی ٹینکر کو نقصان پہنچنے کی بھی رپورٹ دی گئی۔

جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ عام حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی منتقل کرتی ہے۔ ایران نے علاقے میں آمدورفت محدود کی ہے جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کردی ہے۔

اس صورتحال کے ساتھ یمن میں سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان لڑائی بھی تیز ہوگئی ہے۔ حالیہ حوثی حملوں میں سعودی عرب کے مختلف شہروں میں تیل تنصیبات متاثر ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ ایران امریکا ٹینکر حملوں اور علاقائی کشیدگی نے عالمی توانائی اور شپنگ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین