BRICS ایران جنگ اجلاس

نئی دہلی میں BRICS اجلاس پر ایران جنگ کے سائے، اختلافات بڑھ گئے

خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث نئی دہلی میں ہونے والے BRICS وزرائے خارجہ اجلاس پر ایران جنگ کے گہرے اثرات متوقع ہیں۔ یہ BRICS ایران جنگ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب رکن ممالک کے درمیان مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

ایران نے بھارت، جو 2026 میں BRICS کی صدارت کر رہا ہے، سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی اقدامات کے خلاف مشترکہ مذمتی بیان کے لیے اتفاق رائے پیدا کرے۔ تہران اس پلیٹ فارم کو اپنے مؤقف کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔

BRICS ایران جنگ اجلاس میں سب سے بڑی رکاوٹ رکن ممالک کے درمیان اختلافات ہیں۔ ایران اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک اس تنازع کے مخالف سمتوں میں ہیں، جس کی وجہ سے مشترکہ اعلامیے پر اتفاق مشکل ہو گیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اجلاس میں تاخیر سے پہنچ سکتے ہیں جبکہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی شرکت متوقع ہے۔ تاہم کچھ خلیجی ممالک کی نمائندگی غیر واضح ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

بھارت نے میزبان ملک کے طور پر امید ظاہر کی ہے کہ کچھ حد تک اتفاق رائے ممکن ہو سکتا ہے، لیکن حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اختلافات کی وجہ سے حتمی اعلامیہ محدود ہو سکتا ہے۔

BRICS ایران جنگ اجلاس اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ تنظیم میں نئی رکنیت کے بعد اس کی سیاسی پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں۔ نئے ممالک کی شمولیت سے عالمی اثر و رسوخ تو بڑھا ہے مگر اتفاق رائے مشکل ہو گیا ہے۔

جنگ کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ بھی اس اجلاس کا اہم موضوع ہوگا۔ ماہرین کے مطابق سیاسی اتحاد مشکل ضرور ہے مگر یہ اجلاس عالمی سطح پر مکالمے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین