مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عراق اور شام نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں کمرشل پروازوں اور اوور فلائنگ آپریشنز پر نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی تناظر میں عراق اور شام نے فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ شہری ہوابازی کے نظام کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
نوٹم (NOTAM) کے مطابق عراق نے اپنی فضائی حدود 72 گھنٹوں کے لیے بند کر دی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد عراق آنے، عراق سے روانہ ہونے اور عراقی فضائی حدود سے گزرنے والی تمام کمرشل پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ یہ پابندی 7 جون 2026 سے نافذ العمل ہے۔
دوسری جانب شام نے بھی عالمی ہوا بازی حکام کی جانب سے جاری کردہ انتباہات کے بعد اپنی فضائی حدود میں اوور فلائنگ اور کمرشل پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مسافروں اور فضائی آپریشنز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دمشق انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پروازوں کی آمد و روانگی رات 10 بجے کے بعد معطل کر دی گئی، جبکہ شام اور عراق کی فضائی حدود گزشتہ کئی گھنٹوں سے مکمل طور پر بند ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی حدود کی بندش کے باعث بین الاقوامی ایئرلائنز کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے پروازوں کے دورانیے اور آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ متعدد فضائی کمپنیاں صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہیں۔