پاسداران انقلاب

ایران نے اسرائیل کے خلاف ’آپریشن نصر‘ کا اعلان کردیا

ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیل کے خلاف فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے اسے ’’آپریشن نصر‘‘ کا نام دے دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہے اور اس کے لیے تمام جنگی یونٹس کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ حملوں کا آغاز ’’یا حیدر کرار‘‘ کے کوڈ نام کے تحت کیا گیا۔ ان کے مطابق ایرانی افواج ہر محاذ پر بھرپور جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں اور دفاعی و عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔

ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران اسرائیل کے اہم اسٹریٹجک فضائی اڈوں نیواتیم اور تل نوف کو نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان کے مطابق یہ اقدامات اسرائیل کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں کے ردعمل میں اٹھائے گئے ہیں۔

پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے لبنان یا خطے کے دیگر علاقوں میں اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں تو اس کا مزید سخت جواب دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی مفادات بھی ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل ہیں۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں کے بعد مغربی ایران کے شہر کرمان شاہ میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام کے ذریعے ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر تمام پروازیں عارضی طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں۔

ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطین اور لبنان میں حالیہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسرائیل تنازعات کے حل کے لیے امن کی راہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمتی محاذ بھی اپنے مخالفین کو انہی کی زبان میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ لبنان پر حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق حالیہ کارروائی دشمن کے اقدامات کا جواب ہے اور ایران اپنی سلامتی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین