تل ابیب: اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے بعد حکومت سازی کا معاملہ پیچیدہ ہوگیا، جس کے بعد تل ابیب میں سیکڑوں افراد نے احتجاج کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ سے عرب سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے گادی آئزن کوٹ پر زور دیا کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرکے نئی حکومت قائم کی جاسکے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہودی اور عرب سیاسی نمائندوں کے درمیان تعاون ملک میں سیاسی تبدیلی کا راستہ ہموار کرسکتا ہے۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی انتخابات میں عرب جماعتوں نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہ کامیابی انہیں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے جاری سیاسی مذاکرات میں اہم اور فیصلہ کن حیثیت دے سکتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کی انتخابی کامیابی پر سوالات اٹھاتے ہوئے انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی قابل تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ عرب سیاسی رہنماؤں نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے جبکہ اسرائیلی انتخابی حکام نے بھی بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
انتخابات کے نتائج کے بعد اسرائیل میں سیاسی تعطل پیدا ہوگیا ہے کیونکہ 120 رکنی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں کوئی بھی بڑا سیاسی اتحاد حاصل نہیں کرسکا۔ ابتدائی نتائج کے بجائے مکمل ووٹوں کی گنتی کے مطابق نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو 53 نشستیں جبکہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔
اگر اپوزیشن اتحاد کو تمام عرب جماعتوں کی حمایت حاصل ہوجاتی ہے تو اس کی مجموعی نشستوں کی تعداد 67 تک پہنچ سکتی ہے، جو حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت سے زیادہ ہے۔ تاہم عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کا معاملہ آسان نہیں کیونکہ اپوزیشن کی بعض جماعتیں پہلے ہی ایسے سیاسی تعاون پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہیں۔ تل ابیب میں ہونے والا احتجاج اسی سیاسی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔