غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں اور مختلف علاقوں سے شہری ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ فضائی حملوں میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے۔
رپورٹس کے مطابق غزہ کے علاقے المواسی میں قائم بے گھر افراد کے خیموں پر اسرائیلی فضائی حملہ کیا گیا۔ حملے میں ایک سالہ شیر خوار بچے اور اس کی 23 سالہ والدہ سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ امدادی کارکنوں نے زخمیوں کو قریبی طبی مراکز منتقل کیا، جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اسی دوران دیر البلح میں بھی ایک الگ اسرائیلی فضائی حملے میں ایک بچے سمیت 3 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ غزہ کے مختلف علاقوں میں جاری کارروائیوں کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، جبکہ شہری آبادی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
مغربی کنارے میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ رپورٹس کے مطابق رام اللہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 15 سالہ لڑکا جاں بحق ہوگیا۔ اسی طرح البیرہ کے علاقے ام الشریط میں ایک کارروائی کے دوران 15 سالہ امیر احمد جواد جابر کو گولیاں مار کر ہلاک کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ان مخصوص واقعات کے حوالے سے اسرائیلی حکام کا مؤقف ان رپورٹس میں شامل نہیں تھا، اور ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی بنیادی وجہ مسئلہ فلسطین ہے۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہوگا جب فلسطینی علاقوں سے متعلق تنازع کا منصفانہ حل تلاش کیا جائے اور قبضے کا سلسلہ ختم ہو۔