اسرائیلی انتخابات

اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کو بڑا سیاسی دھچکا

اسرائیلی انتخابات کے نتائج میں حکمران رہنما بنجمن نیتن یاہو کے اتحاد کو سادہ اکثریت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر نیتن یاہو کے اتحاد کو 120 رکنی پارلیمنٹ میں 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد 48 نشستیں حاصل کر سکتا ہے۔

نیتن یاہو کی لیکود پارٹی 26 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ تاہم، پارٹی کی برتری کے باوجود اتحادی جماعتوں کی کمزور کارکردگی نے حکومت سازی کے امکانات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے لیے اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا نیتن یاہو مطلوبہ پارلیمانی حمایت حاصل کر سکیں گے یا اپوزیشن کو حکومت بنانے کا موقع ملے گا۔

انتخابی نتائج میں انتہائی دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کو بھی نقصان پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اتمار بن گویر اور بے ذلیل سموٹرچ سے وابستہ جماعتوں کی مشترکہ نشستیں گزشتہ اسمبلی کی 20 کے مقابلے میں کم ہو کر 13 رہنے کی توقع ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرنے والی ان جماعتوں کی کمزور کارکردگی نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کے لیے اہم دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔

اپوزیشن اتحاد میں سابق اسرائیلی آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار پارٹی کو نمایاں کامیابی ملنے کا امکان ہے، جس کے حصے میں 21 نشستیں آ سکتی ہیں۔ سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لیپڈ سے وابستہ سیاسی دھڑوں کو مجموعی طور پر 12 نشستیں ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ نتائج عوام کی جانب سے نیتن یاہو کی قیادت کے خلاف سیاسی پیغام کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسرائیل میں متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج ہے، جس کے تحت ووٹر براہ راست کسی انفرادی امیدوار کے بجائے سیاسی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں۔ جماعتوں کو حاصل ہونے والے ووٹوں کے تناسب سے پارلیمانی نشستیں تقسیم کی جاتی ہیں۔ اس نظام میں حکومت بنانے کے لیے کسی ایک جماعت کی کامیابی کے بجائے مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد اور پارلیمانی حمایت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

انتخابی اعداد و شمار کے مطابق ووٹنگ کا تناسب 78 فیصد رہا، جبکہ عرب شہریوں کی شرکت سے عرب جماعتوں کی پارلیمانی پوزیشن مضبوط ہونے کا امکان ہے۔ فراہم کردہ نتائج کے مطابق، قائمہ المشترکہ کو 12 اور قائمہ العربیہ کو سات نشستیں مل سکتی ہیں، یعنی عرب جماعتوں کی مجموعی نشستیں 19 تک پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم، دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کی جانب سے عرب جماعتوں کو حکومت میں شامل کرنے کے معاملے پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین