پاکستان نے تائیوان کی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے اور انہیں دوبارہ پاکستانی فضائی راستے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ تائیوانی ایئرلائنز کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی پابندی کا تعلق چین کی ون چائنا پالیسی کی حمایت سے جوڑا گیا تھا۔ بلومبرگ کے مطابق، پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئرویز کو 28 اکتوبر سے 27 مارچ تک فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
اس سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کا ایوی ایشن ڈویژن ون چائنا پالیسی پر عمل کرتا ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان نے صرف مین لینڈ چین کی ایئرلائنز کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔ تاہم، تازہ فیصلے کے تحت تائیوان کی دونوں ایئرلائنز کو دوبارہ پاکستانی فضائی راستے استعمال کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق، چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئرویز نے گزشتہ اختتام ہفتہ سے اپنے پروازوں کے راستے تبدیل کرنا شروع کردیے تھے۔ دونوں ایئرلائنز نے 25 اکتوبر کی صبح سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنا بند کردی تھیں۔ اس تبدیلی سے ایشیا اور یورپ کے درمیان چلنے والی پروازیں متاثر ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق، اتوار سے اب تک دونوں ایئرلائنز کی کم از کم 12 پروازوں نے ایشیا اور یورپ کے درمیان سفر کے دوران روسی فضائی حدود استعمال کیں۔ تائیوان کی سول ایوی ایشن انتظامیہ نے راستوں کی تبدیلی پر تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم، اس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی ایئرلائنز کو روسی فضائی حدود سے گزرنے سے کبھی نہیں روکا۔
روس نے تائیوانی ایئرلائنز پر باضابطہ پابندی عائد نہیں کی تھی، لیکن یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد کئی ایشیائی، یورپی اور شمالی امریکی ایئرلائنز روسی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ بلومبرگ کے مطابق، پاکستان کی سابقہ پابندی مین لینڈ چین کی پالیسی سے بھی زیادہ سخت تھی، کیونکہ چین تائیوانی ایئرلائنز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
تائیوانی ایئرلائنز ایشیا اور یورپ کے درمیان پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود پر کافی حد تک انحصار کرتی رہی ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، 24 اکتوبر کو چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئرویز کی 14 پروازوں نے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کی تھیں۔ اس لیے تائیوانی ایئرلائنز کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی پابندی نے ان کے معمول کے فضائی راستوں میں خلل پیدا کردیا تھا۔
پاکستان کے بجائے جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ یا روس کے طویل راستے اختیار کرنے سے پروازوں کے دورانیے میں کئی گھنٹے بڑھ سکتے ہیں۔ اضافی فاصلے کے باعث جیٹ فیول کا استعمال اور آپریشنل اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں، جس سے ایئرلائنز پر مالی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے فضائی حدود دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ان مشکلات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم اس کے عملی اثرات کا انحصار ایئرلائنز کے آئندہ روٹ پلان پر ہوگا۔